Tuesday, 19 September 2017
23ستمبر کو دنیا تباہ ہو جائے گی
23ستمبر کو دنیا تباہ ہو جائے گی،ایک اور پیشگوئی
19/September/2017, 16:55dailyqudrat.com
واشنگٹن (قدرت روزنامہ 19 ستمبر 2017)انسان ہمیشہ دنیا کی کے بارے میں اندازے لگاتے آئے ہیں اس دفعہ پھر سے دنیا کی تباہی کی اور تاریخ دی گئی ہے کو کہ 23ستمبر ہے.واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک عیسائی محقق نے دعویٰ کیا ہے کہ 23 ستمبر 2017 کو دنیا تباہ ہوجائے گی.
اس محقق ڈیوڈ میڈی نے یہ دعویٰ انجیل میں دی گئی باتوں اور ہندسوں کے کوڈز کے حوالے سے کی اور ان میں نمبر 33 نمایاں تھا. ان کے بقول حضرت عیسیٰ 33 سال زندہ رہے، انجیل میں خدا کا ذکر 33 بار آیا، اور واضح ہے کہ یہ نمبر بہت اہمیت رکھتا ہے.اور اس محقق کے بقول اکیس اگست کو مکمل سورج گرہن کے 33 دن بعد یعنی 23 ستمبر کو دنیا کو تباہ ہونا ہے.ان کا ماننا ہے کہ دنیا کی تباہی کا سبب ایک خفیہ سیارہ نیبیرو یا پلانیٹ ایکس بنے گا
جو کہ دنیا کو مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا مگر وہ آج جیسی نہیں رہ سکے گی. اور امریکی خلائی ادارے ناسا لے کر ہر خلائی ماہر عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ نیبیرو نامی کوئی سیارہ موجود ہی نہیں.چند سال قبل ناسا نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ دوربینی یا کسی بھی ذریعے سے اس سیارے کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی ایسے شواہد ملے ہیںکہ ہمارے نظام شمسی پر کسی قسم کے کشش ثقل کے اثرات مرتب ہورہے ہیں. ان کے بقول اگر اتنی بڑی تباہی کا باعث بننے والا سیارہ آرہا ہوتا تو ہم اب تک اس کے کسی حصے کو دیکھ چکے ہوتے.ادارے کے مطابق اس سیارے سے متعلق تمام کہانیاں محض انٹرنیٹ افواہیں ہیں اور اس طرح کے دعووں کے کوئی شواہد موجود نہیں.
..
قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
2
’میں نے بھارت میں جنسی زیادتی کے 100 مجرموں کے انٹرویو کئے اور صرف ایک ہی نتیجے پر پہنچی کہ یہ لو
نئی دہلی(قدرت روزنامہ19-ستمبر-2017) بھارت خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے حوالے سے دنیا بھر میں سرفہرست ہے اور اس کے دارالحکومت دہلی کو ’ریپ کیپیٹل‘ (خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کا دارالحکومت)کہا جاتا ہے. اب ایک طالبہ 22سالہ مدھومیتا پانڈے نے اس پر ایک تحقیق کی ہے جس کے لیے اس نے خواتین سے زیادتی کرنے والے 100مجرموں کے انٹرویوز کیے ہیں.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مدھومیتا پانڈے کا کہنا ہے کہ ”گزشتہ تین سالوں کے دوران دہلی کی تہاڑ جیل میں 100مجرموں کے انٹرویوز کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یہ مجرم سزا پانے کے بعد بھی اپنے جرم پر پشیمان نہیں ہوتے. میں نے جتنے مجرموں کے انٹرویو بھی کیے انہوں نے اپنے جرم کی کوئی نہ کوئی تاویل گھڑنے کی کوشش کی اور الٹا متاثرہ لڑکی کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا. صرف چار مجرم ایسے تھے جنہوں نے اپنے کیے پر پچھتاوے کا اظہار کیا.“ مدھومیتا کا مزید کہنا تھا کہ ”اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے کی گئی اس تحقیق میں میں نے یہ بھی دیکھا کہ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ان مجرموں کی اکثریت ان پڑھ تھی. صرف چند کالج سے فیل ہونے والے تھے. ان مجرموں میں بلا کی صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ اپنے مخاطب کو اپنے اوپر ترس کھانے پر مجبور کر لیتے ہیں. یہ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ سامنے والا شخص انہیں مجبور اور لاچار سمجھنے لگتا ہے.میں سمجھتی ہوں کہ جب تک بچوں کو تعلیم، بالخصوص جنسی تعلیم نہیں دی جاتی ہم اس صورتحال پر قابو نہیں پا سکتے. افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ہاں جنسی عمل اور جنسی تشدد کے متعلق بات کرنا ہی ممنوع سمجھا جاتا ہے. جب بچوں کو جنسی زیادتی اور رضامندی کے ساتھ ہونے والے جنسی عمل کا فرق ہی معلوم نہیں ہو گا تو وہ بڑے ہو کر خود کو اس جرم سے دور کیسے رکھ پائیں گے. ان مجرموں سے میں نے یہی سیکھا ہے کہ ان میں سے اکثر کو جنسی زیادتی اور رضامندانہ جنسی عمل کے درمیان فرق ہی معلوم نہیں تھا.“ ..
قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment